اردو کے ضرب الامثال اشعار
نواب امین الدولہ مہر خدا کی دین کا موسیٰ سے پوچھیے احوال کہ آگ لینے کو جائیں، پیمبری ہو جائے شاہ مبارک آرزو نہیں محتاج زیور کا جسے خوبی خدا نے دی کہ جیسے خوش نما لگتا ہے ، دیکھو چاند بن گہنے راجہ رام نرائن غزالاں تم تو واقف ہو کہو مجنوں کے مرنے کی دوانہ مر گیا آخر کو ویرانے پہ کیا گزری؟ مرزا رفیع سودا گل پھینکو ہو اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی اے خانہ بر اندازِ چمن کچھ تو ادھر بھی میر تقی میر سرہانے میر کے آہستہ بولو ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں شکست و فتح نصیبوں سے ہے ولے اے میر مقابلہ تو دل ناتواں نے خوب کیا جہاندار شاہ جہاندار آخر گِل اپنی، صرفِ درِ میکدہ ہوئی پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھی عظیم بیگ عظیم گرتے ہیں شہسوار ہی میدانِ جنگ سے وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بَل چلے ابراہیم ذوق پھول تو دو دن بہارِ جانفزا دکھلا گئے حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بِن کھِلے مرجھا گئے اصغر خان اصغر اگر بخشے، زہے قسمت، نہ بخشے تو شکایت کیا سرِ تسلیم خم ہے جو مزاجِ یار میں آئے